Why School Students are Pushed to Commit Suicide! (in Urdu)

Why School Students are Pushed to Commit Suicide! (in Urdu)

By Mujahid Hussain: A 7th class student commit suicide. He was in love with his school teacher. Media and public gone made, blaming whatever they can point their fingers on. Coeducational system was an easy target as usual but before blaming the system, many forget that this is not Pakistan-only issue, suicide rates in school students are increasing worldwide.

A dear friend Mujahid Hussain is looking this sad incident differently and I agree with his point. I had to copy his facebook status here for the sake of spreading a possibility that makes more sense than baseless blame game.

ساتویں کلاس کے ایک بچے نے اپنی استانی کی محبت میں خودکشی کرلی اور ہر طرف شور مچ گیا۔ کوئی اسے اخلاقی تربیت کی کمی بتا رہا ہے تو کوئی مخلوط تعلیم کو اس کا باعث قرار دے رہا ہے۔

میرا سوال ہے کہ اس وقت لاکھوں بچے مخلوط تعلیم کے اداروں میں پڑھ رہے ہیں، انہیں پڑھانے والی بھی خاتون اساتذہ ہیں، تو ان لاکھوں بچوں میں سے صرف ایک نے خودکشی کیوں کی؟ باقی کس لئے بچ گئے؟

ایک یا ایک سے زیادہ واقعات سے عمومی نتائج اخذ کرنا مشرق کی روایت ہے۔ مغربی ذہن کرید کرتا ہے، تفصیل میں جاتا ہے، جزیات کو پرکھتا ہے اور پھر نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ اس کی تجزیاتی فکر فرد پر مرکوز ہے جبکہ ہماری سماج پر۔ ہم ایک واقعے کو پورے سماج پر پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے حقیقت ہمارے ہاتھ نہیں آ پاتی۔

اگر یہی واقعہ مغرب میں ہوتا تو وہاں یہ دیکھا جاتا کہ اس بچے کے ساتھ کونسے نفسیاتی مسائل تھے جس کی وجہ سے اس نے ایک ابنارمل رویہ اختیارکیا۔ اس کے گھریلو حالات کا جائزہ لیا جاتا کہ کہیں اس سانحے کی کڑیاں اس کے والدین کی آپسی ناچاکی میں تو نہیں پائی جاتیں، تحقیق کی جاتی کہ کیا اس بچے کو گھر سے پوری توجہ مل پاتی تھی۔ امکانات کی ایک وسیع دنیا ہے جس کا تفصیل سے جائزہ لیا جاتا اور پھر جو نتائج سامنے آتے انہیں میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے لایا جاتا تاکہ لوگوں کی بھی تربیت ہو سکے۔

ہمارے ہاں چونکہ تحقیق کی روایت پر الزام کی نفسیات نے قبضہ کر لیا ہے اس لئے ہر واقعے کا سطحی جائزہ لیا جاتا ہے اور اپنے پہلے سے قائم شدہ تعصبات کی روشنی میں من مانے نتائج نکالے جاتے ہیں۔ کاش کوئی رپورٹراس بچے کے گھریلو پس منظر کا جائزہ لیتا، اس کے کلاس فیلوز سے تفصیل پوچھتا کہ مرحوم کے روئیے میں کوئی ابنارمل بات تو نہیں تھی۔ اس سے بہت سے والدین اور اساتذہ کو بروقت وارننگ مل جتی۔ میڈیا کا تربیت کرنے والا پہلو تو یکسر ختم ہو چکا ہے، ہمارا دانشور بھی اب الزام کی سطح سے اوپر اٹھنے کو تیار نہیں ہے۔

0

Categories: Blog,Health,Viral

Leave A Reply

Your email address will not be published.