Deen aur Duniya by Syed Irshad Ahmed

Hell Imageرپڈ جینز اور بنا آستین کی شرٹ زیب تن کیے وہ حلیے سے وہ کسی کھاتے پیتے گھرانے کا فرد معلوم ہو رہا تھا جو دوستوں کے ساتھ بیٹھا اپنے موبائل پر کسی لڑکی سے بات کرنے میں مصروف تھا… ساتھ ہی وہ دین اور دنیا پرجاری اس بحث میں بھی حصہ لے رہا تھا جو اس محفل میں پورے زور و شور سے جاری تھی… اس کی باتوں سے مجھے اس کی دین سے بیزاری  کا اندازہ ہو رہا تھا… اس کا سارا زور بیان اس بات کو ثابت کرنے پر تھا کہ پرانے اسلام کا جدید دور سے کیا لینا دینا… اسلام شدت پسندی سکھاتا ہے اور اسلامی تاریخ قتل و غارت اور سفاکیت سے بھری پڑی ہے سو وقت آ گیا ہے کہ اب دین کو خالصتا ایک ذاتی معاملہ سمجھ کر ریاستی امور کو اس سے بالکل علیحدہ کر دیا جاۓ.. موجودہ حالات کے تناظر میں اسکے دئیے دلائل کافی متاثر کن تھے جن کا اثر اس کے ساتھیوں کے رویوں سے صاف جھلک رہا تھا… قائد اعظم کو لبرل ثابت کرنے کے بعد وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی درگزر کو بنیاد بنا کر دین کی وضاحت شروع کرنے ہی والا تھا کہ قریب بیٹھا ایک باریش آدمی اپنی کرسی سے اٹھا اور ان لوگوں کے درمیان آ کر بیٹھ گیا…

میں جو وہاں کسی دوست کے انتظار میں بیٹھا بور ہو رہا تھا ان کے درمیان ہونے والی ممکنہ زوردار جھڑپ شروع ہونے کی امید پر پوری طرح ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو گیا… ارے معاف کیجئے گا کہ میں اپنا تعارف تو کروانا ہی بھول گیا.. ایک عام سا نام و شکل رکھنے والا میں اس معاشرے کا ہی ایک حصہ ہوں.. متقی ہونے کا کبھی دعوا تو نہیں کیا پر صوم و صلاوات کی پابندی کی کوشش کر ہی لیتا ہوں… دل کا تھوڑا نرم ہوں سو کوشش کرتا ہوں کہ لوگوں کی حتی امکان مدد بھی کر دوں مگر یہ مدد میرے اپنے طے کردہ اصولوں سے مشروط ہوتی ہے… دنیا میں رہتا ہوں تو دنیا دار بھی ہوں اور دوستوں کے ساتھ کبھی کبھار ڈسکو اور پارٹیز میں بھی چلا جاتا ہوں… کافی مطالعہ کر چکا ہوں سو صحیح اور غلط میں تمیز کرنا جانتا ہوں مگر اکثر یہ تیز بھاگتی زندگی اتنا وقت ہی نہیں دیتی کہ کوئی مسلہ درپیش ہونے پر اس کو کتابوں میں لکھے علم کی کسوٹی پر پرکھ کر کوئی فیصلہ کر سکوں… سفید پوش طبقے سے تعلق رکھتا ہوں سو ایک منزل سر کرنے کے فورا بعد دوسری کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا ہوں…

خیر گفتگو جیسے جیسے آگے بڑھتی گئی ویسے ویسے ان کے درمیان تلخی بھی بڑھ گئی اور ایک وقت آیا کہ جب دونوں نے عقل اور دلائل کو ایک طرف رکھا اور ایک دوسرے کی ذاتیات پر حملے شروع کردئیے… میں نے ایک بار سوچا کہ میں جا کر ان دونوں کو خاموش کروانے کی کوشش کروں مگر میرے تو اپنے بڑے بکھیڑے تھے سو میں کیوں دو بیوقوفوں کے معاملات میں پڑتا سو میں چپ بیٹھا رہا… اچانک باریش انسان نے اس نوجوان کو کافر قرار دے دیا اور جواب میں اس نے ستھری انگریزی میں گالیاں کھائیں… میں اب بھی اطمینان سے بیٹھا دونوں کی متضاد سوچ کی انتہاؤں کو دیکھتا رہا اور ساتھ ساتھ ان کاموں پر سوچتا رہا جو اس دن مجھے سر انجام دینے تھے… اچانک نوجوان نے اپنا مشروب سے بھرا گلاس ان مولانا صاحب کے سر پر الٹ دیا… کچھ  لمحات تو خاموشی سے گزرے جس کو ایک زوردار الله و اکبر کی پکار نے توڑا.. اور پھر ساتھ ہی مولانا نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ریموٹ کا بٹن دبا دیا جو دراصل اس جیکٹ سے منسلک تھا جو انہوں نے پہن رکھی تھی…

اور پھر میں، وہ نوجوان اور مولانا، ہم تینوں موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لا کر مر گئے…

میری آنکھ کھلی تو ہم تینوں نے خود کو الله کے دربار میں کھڑا پایا جہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے… میں اس ناگہانی موت پر سخت غصّے کے عالم میں تھا پر خدا کے جلال کے رعب سے میری ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ اپنے اوپر ہوۓ اس ظلم پر کچھ  کہہ سکتا… پر مجھے اطمینان قلب تھا کہ اللہ سے کچھ نہیں چھپا سو وہ ان دونوں ظالموں سے خود حساب لے گا اور میری ناحق موت کا مجھے کفّارا ضرور ملے گا.. دنیا اس طرح چھوٹ جانے کا دکھ تو بہت تھا پر اس شہادت کی موت پر ملنے والی جنّت میں جانے کی خوشی اس سے کہیں زیادہ تھی… میں کان لگائے بیٹھا تھا کہ کب مجھے ندا آئے گی کہ اے نیک روح الله کی مغفرت اور اس کی خوشنودی کی طرف نکل آ… اتنی دیر میں فرشتے نے ہم تینوں کو دھکا دے کر آگے بڑھنے پر مجبور کر دیا… اور اب ہم رب کائنات کے رو برو تھے… پتا نہیں کیوں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان دونوں کی طرف دیکھتے تو آپ کی نظروں میں ایک تاسف اور رنج ہوتا مگر میری جانب دیکھنے پر آپ کی آنکھوں میں مجھے خود کے لئے غصّہ نظر آتا… خیر میں نے اسے اپنا وہم سمجھ کر جھٹک دیا… اچانک میری نظر اس نوجوان اور ان مولانا پر پڑی جنہوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا… شاید ظاہر کی آنکھ کھلتے ہی ان ظالموں کو حقیقت سمجھ آگئی تھی… میں نے اپنے دل میں ان دونوں کے لئے نفرت کی ایک اور شدید لہر اٹھتے محسوس کی…

اچانک کل عالم کے رب کی پر جلال آواز نے ہم سب کولرزا کر رکھ دیا… اور پھر جو میں نے سنا اس پر حیرت سے میری آنکھیں پھٹ گئیں…. فرشتوں سے کہا گیا کہ اس نوجوان اور باریش انسان کے اعمال کو معروف اور منکر کی کسوٹی پر پرکھ کر ان کا فیصلہ کیا جاۓ اور مجھے بنا کسی تاخیر کے گھسیٹ کر جہنم کے بدترین گڑھوں میں سے ایک میں پھینک دیا جائے… دو ہیبتناک فرشتوں نے جن کے بڑے بڑے جسم، کالا رنگ اور بجلی جیسی چمک والی گہری سرخ آنکھیں تھیں، میری چیخ پکار پر توجہ دئیے بغیر مجھے جہنم کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا اور جلد میں نے خود کو ایک بہت گہرے سخت ترین گرم گڑھے کے دہانے پر پایا… ابھی میں اپنا قصور ہی پوچھ رہا تھا کہ میں نے خود کو ہوا میں معلق پایا اس آگ کی طرف جو میرے نیچے بہت نیچے اپنے رزق کا انتظار کر رہی تھی… پھر اچانک میرے کانوں میں ایک آواز آئی…

ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، اس کے ساتھ خیانت نہ کر ے ، اس سے جھوٹ نہ بولے ، اوراس کوبے یارومددگارنہ چھوڑے ، ہرمسلمان کی عزت، دولت اورخون دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے ، تقوی یہاں(دل میں) ہے ، ایک شخص کے بُرا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر و کمتر سمجھے…
(ترمذي: 1927 ، ، صحيح الجامع: 6706)

پھر ندا آئی…

قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ بخاری ومسلم

پھر میں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ بزرگ وبر تر ارشاد فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں، میں رحمٰن ہوں (یعنی صفت رحمت کے ساتھ متصف ہوں) میں نے رحم یعنی رشتے ناتے کو پیدا کیاہے ا ور میں نے اس کے نا م کا لفظ اپنے نام یعنی رحمٰن کے لفظ سے نکالا ہے۔ لہذا جو شخص رحم کو جوڑیگا یعنی رشتہ ناتے کے حقوق اداکریگا تو میں بھی اس کو(اپنی رحمت کے ساتھ) جوڑونگا ا ور جو شخص رحم کو تو ڑیگا یعنی رشتہ ناتے کے حقو ق ادا نہیں کریگا میں بھی اس کو(اپنی رحمت خاص سے) جدا کردونگا… ابوداود

شاید اس آخری وقت میری آنکھوں پر پڑا پردہ بھی نوچ کر پھینکا جا رہا تھا اور میں نے, جو اپنی پوری زندگی اپنے مسلمان بھائی کے حقوق ہی سمجھ نہ پایا، ندامت سے چور اب مزاحمت چھوڑ کر نفرت کی ایک شدید لہر کو خود اپنے لئے بھی اپنے دل میں محسوس کرتے ہوۓ، آنکھیں بند کر کے خود کو عذاب کے حوالے کر دیا…

Categories: Article,Mix

Leave A Reply

Your email address will not be published.