A Cycle of Violence that has to be Stop before it’s too Late!

اس پانچ سالہ بچے کا باپ ایک کروڑپتی آدمی ہے جس کی دو بیویاں ہیں۔ یہ بچہ چونکہ پہلی بیوی سے ہے اس لیے اس کے جسم پر زخموں کے پھول اگتے ہیں اور روح پرذلت کے داغ ثبت ہوتے ہیں۔ محبتوں کی تمام تر خوشبو صرف دوسری بیوی اوراس کی اولاد کے لئے مخصوص ہے۔ 

اس کے چہرے پرنمودار ہونے والے یہ اجنبی نشان کل رات وجود میں آئے ہیں۔  کسی بات پر باپ کو غصہ آیا تو اس نے اس کے چہرے اور پورے جسم کو زخموں سے بھر دیا ۔ اسی حالت میں یہ آج سکول بھی گیا ہے اوراسے ٹیوشن سے بھی چھٹی نہیں ملی۔ اس کی خوفزدہ آنکھیں ایسے سوالات سے بھری ہوئی ہیں جن کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔ اس لئے باوجود خواہش کے اس کے چہرے کی تصویر نہیں کھینچ سکا۔

مجھے علم نہیں کہ اس ظلم کے سدباب کے لئے ریاست نے کونسے قوانین یا ادارے بنائے ہوئے ہیں۔ مجھے اتنا پتہ ہے کہ ہمارے سماج میں طاقت کا راج ہے۔ طاقت کے مختلف دائرے ایک دوسرے سے اس بری طرح الجھے ہوئے ہیں کہ ایک بھول بھلیاں وجود میں آ گئی ہے جس میں پھنسا ہر فرد اپنی بقا کا رستہ تلاش کر رہا ہے۔

کسی جگہ پڑھا تھا کہ ہماری ذات ایک جنگل کی طرح ہے جس میں ہر طرح کے درندے گھوم رہے ہیں۔ ان درندوں کو اپنی حدود میں رکھنے کے لئے معاشرہ، ریاست اور مذاہب وجود میں آئے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ تینوں کتنے طاقتور مظاہر ہیں لیکن یہ سب مل کر بھی ایک معصوم بچے کو اس ظلم سے نہیں بچا سکتے جو شاید تمام عمرکے لئے اس کا نصیب بن چکا ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ اس معاشرے کی بنت، ریاست کی ساخت اور مذہب کی تعبیر میں ہم سے کہیں بہت بڑی کوتاہی ہوئی ہے۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس ظلم کر روکنے کا کوئی رستہ موجود نہ ہو۔

اس کے باپ کو کسی کا خوف نہیں ہے جبھی تو اس نے تازہ زخموں کے ساتھ اسے سکول بھی بھیج دیا اور ٹیوشن پربھی۔ اس وقت ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ ہم طاقتور کے اندر خوف پیدا کرنے میں کیوں ناکام ہوئے ہیں؟ اس پر سیکولر حلقے بھی سوچیں اور مذہبی لوگ بھی غور کریں کیونکہ یہی ہمارا حقیقی المیہ ہے۔

via Mujahid Hussain

0

Categories: Blog,Stories

Leave A Reply

Your email address will not be published.